منصبِ تدریس اور اس کی ذمے داریاں

تعلیم وتدریس ایک معزز اور قابلِ احترام منصب ہے، معلّم و مدرس تعلیم وتربیت کا وہ بنیادی عنصر ہے جس کے بغیر تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گویا معلّم ہی معاشرے کا وہ بنیاد ی مرکز اور محور ہے کہ جس کے گرد تمام تعلیمی سرگرمیاں گردش کرتی ہیں، ماہرینِ تعلیم کے بقول اُستاذ کا کردار ایک اچھے مالی کی طرح ہے، جس طرح باغ میں پودوں کی مناسب افزائش مالی کی بھرپور توجہ کے بغیر نہیں ہوسکتی؛ اسی طرح بچوں کی تعلیم وتربیت بھی معلم کی بھر پور توجہ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

معلمی کا سلسلہ ایسا مقدس مشغلہ ہے جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اعلٰی صفت اور فرائضِ نبوت میں سے ایک فریضہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَاِنْ کَانُوْامِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن﴾․ (آل عمران :164)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، اُنہیں پاک صاف بنائے، اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے؛ جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ (توضیح القرآن)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً (ابن ماجہ، دارمی) مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ تمام صفاتِ عالیہ موجود تھیں جو ایک معلمِ کامل میں مطلوب ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کمالِ علم، خلقِ عظیم، اُسوہ حسنہ ،کمال شفقت ورحمت جیسی صفات سے متصف تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُن تَعْلَمْ﴾ (النساء )۔ اور تم کو اُن باتوں کا علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ (توضیح القرآن)۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی عالی صفات میں کمالِ علم، عظیم حکمت، اعلیٰ اخلاق، شاگردوں کے ساتھ شفقت ورحمت، اُن کی تعلیم وتربیت کے لیے عمدہ اور مفید اُسلوبوں کا استعمال اور اس کی خبر گیر ی وغیرہ جیسے اوصاف اپنے کمال کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔

لہٰذا جو مدرس واُستاذ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب بننا چاہے اور فن تدریس میں کمال تک پہنچنے کا خواہش مند ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معلّمِ اعظم جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی صفات وکمالات، جو فن تدریس سے متعلق ہیں ،ان سے آشنا ہو اور پھر آپ کے نقشِ قدم پر چلے۔

پیغمبر علیہ الصلوٰة والسلام نے معلم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیا فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ (مشکوٰة)۔ ایک حدیث میں ہے: خیر کی تعلیم دینے والے اُستاذ کے حق میں دنیا کی ہر شے دعا گو ہوتی ہے، حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔ (ترمذی)۔ ایک اور جگہ فرمایا: دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ سب ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے اور معلّمِ خیر اور متعلّم کے۔(ترمذی)۔ اس سے آگے بڑھ کر مستجاب الدعوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معلّمِ خیر کے لیے دعا فرمائی: اللہ تعالیٰ خوش وخرم رکھے اُس شخص کو جس نے ہم سے کچھ سنا اور اسے محفوظ رکھا اور پھر آگے پہنچایا، یعنی لوگوں کو بتلایا۔(ابن ماجہ)

فقیہ ابواللیث سمر قندیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلمؒ اپنے والد کے واسطہ سے ایک صحابی کا قول نقل کرتے ہیں کہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام اور شہدائے کرام کے بعد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب معلّمین ہیں اور مساجد کے علاوہ روئے زمین کا کوئی خطہ اللہ تعالیٰ کو اس جگہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اللہ کی کتاب پڑھائی جاتی ہو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر یہ دعا فرمائی: ﴿اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُعَلِّمِیْنَ وَاَطِلْ اَعْمَارَھُمْ وَبَارِکْ لَھُمْ فِیْ کَسْبِھِمْ وَمَعَاشِھِمْ﴾ اے اللہ! قرآن سکھانے والوں کی مغفرت فرما، اُن کی عمریں دراز فرما، اُن کی کمائی اور معاش میں برکت فرما۔ (تحفہ معلم:ص19)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُستاذ کامرتبہ کتنا بڑا ہے؛ اس لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں بڑی نعمت علم ہے اور علم صاحبِ علم کے تمام عیوب کو چھپا لیتا ہے؛ اسی لیے معاشرہ میں اساتذہ کے بارے میں یہ بات کبھی سننے کو نہیں ملتی کہ فلاں اُستاذ کالا ہے، فلاں اُستاذ فلاں خاندان سے تعلق رکھتا ہے؛ لہٰذا میں اس سے نہیں پڑھتا؛ بلکہ حکماء فرماتے ہیں کہ بادشا ہ تو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں اور معلّمین بادشاہوں پر حکومت کرتے ہیں۔

اُستاذ کو اولاً اللہ کا شکر بجالانا چاہیے کہ اس ذاتِ عالی نے اس کو علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرمائی۔

اب ہم اصحابِ تدریس کی ذمہ داریوں پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں:

سب سے پہلے تاکیدی امر یہ کہ تدریس کا عمل ریا سے خالی ہو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عالم کو اللہ رب العزت طلب فرمائیں گے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ میں نے تجھے علم دیا تھا تو نے اس کا کیا حق ادا کیا؟ وہ کہے گا الٰہ العالمین! میں نے آپ کی رضا کے لیے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا کہ آپ راضی ہوجائیں ،اللہ فرمائیں گے جھوٹ بولتا ہے۔ تو عرش اور فرش کے سارے فرشتے بھی کہیں گے جھوٹ ہے، جھوٹ ہے، تونے اس لیے سیکھا اور سکھایا تھا کہ لوگ کہیں بڑا عالم ہے، سو تجھے دنیا میں کہا جا چکا اور پڑھنے پڑھانے سے جو غرض تھی پوری ہوگئی، پھراللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے اور وہ اس کو جہنم کی آگ میں اوندھے منہ پھینک دیں گے۔(مسلم، نسائی)

شارحینِ حدیث نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث سناتے ہوے تین بار غش کھاکر گرے تھے اور پانی کے چھینٹے ڈال کر آپ کی طبیعت کو بحال کیا گیا تھا؛ لہٰذا مدرسین کو یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ الٰہ العالمین! مجھے اخلاصِ نیت نصیب فرما اور ریاکاری سے محفوظ فرما اور مدرسہ کی جو ٹوٹی پھوٹی خدمت، تدریس وغیرہ کی صورت میں، کررہا ہوں اس کو اپنی بارگاہ میں قبولیت عطا فرما۔

بعض بزرگوں نے فرمایا کہ کتاب میں نشانی کے لیے جو کاغذ رکھا جاتا ہے، اُستاذ کو چاہیے کہ اس پر لفظ ”اخلاص“ لکھ لے؛ تاکہ روزانہ سبق پڑھانے بیٹھے تو اس کاغذ پر نظر پڑے گی تو استحضار ہوجائے گا کہ یہ پڑھنا پڑھانا محض اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کر رہا ہوں؛ اسی طرح جب گھر سے نکلے تو اس نیت کا استحضار کرلے کہ اے اللہ! آپ کی رضا کے لیے علم پڑھانے جا رہا ہوں، آپ مجھے علمِ نافع عطا فرمائیے اور مجھے اس سے ہدایت نصیب فرمایئے!

بزرگوں کا ارشاد ہے ماں باپ ذریعہ بنتے ہیں اولاد کو عرش سے فرش پر لانے کا اور اُستاذ تربیت کر کے اُن بچوں کو فرش سے عرش تک پہنچاتا ہے۔

اساتذہ کرام اپنی حیثیت پہچانتے ہوئے اس بات کاخیال رکھیں کہ آپ کا مقام یہ ہے کہ آپ شاگردوں کو فرش سے عرش تک پہنچاتے ہیں؛ لہٰذا آپ کو ہر مرحلے پر بہت ہی مناسب رویہ اختیار کرنا پڑے گا، خصوصاً اُس وقت جب آپ کو طالبِ علم پر غصہ آئے، مثلاً بلا وجہ مہتمم تک آپ کی شکایت پہنچائی، آپ کے طرزِ بیان وغیرہ کی نقل اُتارتے وقت آپ کی نظر پڑجائے، یا باربار تنبیہ کے باوجود وہی پچھلی شرارت جاری رکھیں وغیرہ تو ایسے وقت فطری طور پر اپنے شاگردوں پر شدید غصہ تو آنا ہی ہے ،اب یہ وقت ہوگا کہ اُستاذ اس حقیقت کا استحضار رکھتے ہوئے کہ اُستاذ وہ ہستی ہے جس کا کام شاگردوں کی تربیت کرکے ان کو فرش سے عرش تک پہنچانا ہے، اپنی قوتِ برداشت میں اضافہ کرنے اور اس صلاحیت کو کام میں لاتے ہوئے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت تنبیہ کے طور پر کوئی طرزِ عمل ایسا نہ اختیار کرے اور نہ ایسا کوئی جملہ زبان سے کہے کہ جس سے وہ بے تربیت بچہ مزید اخلاقی پستی کا شکار ہوجائے اور کہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور نہ ہوجائے کہ انسانیت کی تربیت کرنے والے اداروں میں ہمیں سلیقہ سکھلانے والے تو وہی زبان بول رہے ہیں جو میں گلیوں اور بازاروں میں سنتا رہتا ہوں؛ لہٰذا یہ بات یاد رکھیں کہ اُستاذ صرف اس وقت اُستاذ نہیں ہوتا جس وقت وہ سبق پڑھا رہا ہو؛ بلکہ وہ اس وقت بھی اُستاذ ہوتا ہے جس وقت وہ شاگرد سے سبق سن رہا ہو۔ شاگرد کی اچھائی سامنے آنے پر بھی وہ اُستاذ ہے اور شاگرد کی برائی سامنے آنے پر بھی وہ استاذ ہے، شاگر د کے ذہین اور ہوشیار ہونے پر بھی وہ اُستاذ ہے اور شاگردکے غبی اور بے وقوف ہونے پر بھی وہ اُستاذ ہے، شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا موقع آئے تب بھی وہ اُستاذ ہے اور جب اصلاح و تادیب کا وقت ہو تب بھی وہ اُستاذ ہے۔

الغرض اُستاذ کو مختلف اوقات میں بہت ہی زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ میرا کوئی فعل یا عمل ان شاگردوں کے لیے برا نمونہ نہ بن جائے، خصوصاً جب کہ زیادتی شاگردوں کی طرف سے ہو، اور ایسی زیادتی جو بہت بری ہو؛ لیکن پھر بھی اُستاذ کو یہی سوچنا چاہیے کہ کسی طرح یہ شاگرد اس برائی سے، اس بدتمیزی سے، اس بد اخلاقی سے بچ جائے، اگر اس موقع پر میرے صبر کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے اور پھر اکیلے میں اس کو سمجھانے سے اس کی یہ برائی ختم ہوجاتی ہے تو الحمد للہ واقعی میں اُستاذ ہوں اور اللہ نے ایک بندے کی بری عادت کے چھڑانے کا ذریعہ مجھے بنادیا، اس سلسلے میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک عمل ہم سب کے لیے نمونہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں جارہا تھا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نجرانی چادر اوڑھے ہوے تھے، جس کے کنارے موٹے تھے، اچانک ایک بدو آیا اور اُس نے آپ کی چادر زور سے کھینچی، میں نے دیکھا اس کی وجہ سے آپ کی گردن پر نشان پڑ گیا، پھر کہنے لگا: اے محمد! آپ کے پاس جو اللہ تعالیٰ کا مال ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجیے۔ حضورصلی الله علیہ وسلم اس کی طر ف متوجہ ہوے، ہنسے اور اُس کو دینے کا حکم دیا۔ایک حدیث میں ہے کہ اس بد و نے آپ کی چادر کو اتنی زور سے کھینچا کے آپ اس کے سینے سے جالگے اور ہمام کی روایت میں ہے کہ اتنے زور سے چادر کھینچی کہ وہ پھٹ گئی اور اس کا کنارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں رہ گیا۔(صحیح مسلم)

اس حدیث میں جاہل لوگوں کی باتوں اور طرزِ عمل پر صبر اور ان سے بحث ومباحثہ اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کی اور برائی کو بھلائی کے ذریعے دور کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ لہٰذا ہر اُستاذ کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے کو یاد رکھیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو سکھلانے کے لیے کتنا صبر کیا ہے اور کیسے کیسے اُمور برداشت کیے ہیں؟اگر میں بھی (کچھ معمولی بدتمیزی پر) اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوے صبر کرلوں تو شاید مجھے بھی اجر وثواب میں کچھ حصہ مل جائے۔ (تلخیص از مثالی اُستاذ،ص:25) اُستاذ کو چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ ومبارک نسبت کے احترام میں مہمانانِ رسول سمجھ کر شاگردوں کے ساتھ شفقت ونرمی کا معاملہ کرے۔

امام ابو یوسفؒ کا قول ہے کہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسے خلوص اور محبت سے پیش آو کہ دوسرا دیکھے تو سمجھے کہ یہ تمہاری اولاد ہیں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ علمی مجالس میں خصوصیت کے ساتھ غصہ سے پر ہیز کرو۔

امام ربانیؒ کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک طالبِ علم فرش پر بیٹھا قرآن مجید پڑھ رہا تھا، حضرت نے دیکھا تو اپنے نیچے فرش زیادہ پایا، فی الفور زائد فرش اپنے نیچے سے نکال کر اس طالبِ علم کے لیے بچھادیا۔

استاذ الکل حضر ت مولانا مملوک علی صاحبؒ کا یہ حال تھا کہ جب طالبِ علم بیمار ہوتا تواس کی قیام گاہ پر جاکر عیادت کرتے اور اس کی ہرطرح دلجوئی کرتے؛ حالاں کہ اس زمانہ میں دار الاقامہ کا انتظام نہیں تھا، مختلف مساجد اور مکانوں میں طلبہ رہتے تھے۔(تحفہ معلم،ص:29)

اصحابِ تدریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حتی الامکان طلبہ سے خدمت لینے میں احتیاط سے کام لیں؛ بلکہ اس پہلو کو مد نظر رکھ کر وقت گذاریں کہ پیار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام اپنے ہاتھ سے کر لیا کرتے تھے، اُستاذ کے لیے یہ عافیت اور فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

مدرس اپنے شاگردوں کی بہتر تعلیم کے ساتھ اُنہیں دین دار بنانے کی فکر کرے؛ اس کے لیے ضروری ہے کہ اولاً خود باشرع اور دین دار بنے، اپنے تلامذہ کو نماز باجماعت اور تکبیر اولیٰ کا پابند کرنے سے پہلے خود اس کا پابند ہو، حفاظتِ اوقات کی تلقین اور تشکیل سے قبل خود اس کا عملی نمونہ پیش کرے، بچوں کو خلافِ شرع کا موں سے دور رہنے اور مامورات کی تاکید کرنے سے پہلے اپنی زندگی کو شریعت وسنت کے سانچے میں ڈھالے، یقین جانیے کہ تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت کے لیے یہ طریقہ بڑا موثر معیاری اور مسنون طریقہ ہے۔

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز تعلیم وتربیت پر روشنی ڈالتے ہوے لکھتے ہیں:

احقر کی نظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ تربیت کی سب سے زیادہ موثر خصوصیت یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیرؤوں کو جس بات کی تعلیم دی اس کا بذاتِ خود عملی نمونہ بن کر دکھایا، آپ صلی الله علیہ وسلم کے وعظ ونصائح اور آپ کی تعلیم وتربیت صرف دوسروں کے لیے نہ تھی؛ بلکہ سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے تھی، اللہ تعالیٰ نے بہت سے معاملات میں آپ صلی الله علیہ وسلم کو رخصت وسہولت عطا فرمائی؛ لیکن آ پ صلی الله علیہ وسلم نے اس رخصت وسہولت سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے اپنے آپ کو دوسرے تمام مسلمانوں کی صف میں رکھنا پسند فرمایا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی تلقین فرمائی تو خود اپنا یہ عالم تھا کہ دوسرے اگر پانچ وقت کی نماز پڑھتے تو آپ آٹھ وقت نماز ادا فرماتے، جس میں چاشت ،اشراق اور تہجد کی نماز شامل ہیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کو زکوٰة دینے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید فرمائی تو سب سے پہلے خود اپنی عملی زندگی میں اس کا بے مثال نمونہ پیش کیا، عام مسلمانوں کو اپنے مال کا چالیسواں حصہ فریضے کے طور پر دینے کاحکم تھا اور اس سے زیادہ حسبِ توفیق خرچ کرنے کی تلقین کی جاتی تھی؛ لیکن خود آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا عمل یہ تھا کہ اپنی فوری ضرورت کو سادہ طریقے سے پورا کرنے کے بعد اپنی ساری آمدنی ضرورت مند افراد میں تقسیم فرمادیتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ کی وقتی ضرورت سے زائد ایک دینار بھی گھر میں باقی رہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیرؤوں کو زہدو قناعت کی تعلیم دی تو خود اپنی زندگی میں ا س کا عملی نمونہ پیش کرکے دکھایا۔

خلاصہ یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت جس نے دشمنوں کے دل جیتے اور جس نے وحشی قوم کو تہذیب وشائستگی کے بامِ عروج تک پہنچایا، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ تعلیم محض ایک فکر اور فلسفہ نہیں تھی جسے خوب صورت الفاظ کا خول چڑھا کر آ پ نے اپنے پیرؤوں کے سامنے پیش کر دیا ہو؛ بلکہ ایک متواتر اور پیہم عمل سے عبارت تھی۔ (تعلیم وتربیت کس طرح؟:ص86)

بہر حال! ہر اُستاذ کے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بحیثیت معلم بہترین نمونہ ہے، حافظ، قاری، محدث، مفسر ہر طبقہ کے مدرسین طلبہ کی تعلیم وتربیت کے معاملے میں سیرتِ طیبہ کو پڑھیں اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھال کر معلمی کے اہم واشرف منصب کے فرائض انجام دیں۔

یقینا اس طرزِ عمل کو اپنا کر ہم اپنے طلبہ کے مستقبل کو روشن بناسکیں گے اور ہماری ذاتی زندگی بھی دارین کے اعتبار سے فلاح وکام یابی اور سرخ روئی کا ذریعہ بنے گی، ان شاء اللہ۔

شیئر کریں

رائے

فہرست

اپڈیٹ شدہ

اشتراک کریں

سبسکرائب کریں

نئے اپڈیٹس بارے معلومات حاصل کریں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں اور سبسکرائب بٹن دبائیں۔ شکریہ

سوشل میڈیا

مشہور مدارس