قرآن مجید حفظ کرنے کے سنہری اصول

کچھ اصول و قواعد جو قرآن پاک حفظ کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں پیش خدمت ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں ہم سب کے لیے فائدہ مند بنائے۔ آمین

۱۔ اخلاص

قرآن پاک کے حفظ اور اس کے لیے کی جانے والی محنت کا مقصد اللہ تعالی کی رضا او ر جنت کا حصول ہونا چاہئے۔

رسول مقبول ﷺ کا ارشاد ہے: ” اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی ہوں، جو کوئی عمل کرے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے عمل  کو چھوڑ دیتا ہوں”

اس لئے آپ حفظ صرف اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیجئے کسی اور  مقصد کو پیش نظر مت رکھیئے۔

۲۔ درست قرأت اور صحیح تلفظ

اخلاص کے بعد قرآن پاک حفظ کرنے کے راستے پر سب سے پہلا قدم قرآن کریم کے الفاظ کی درست ادائیگی ہے اور یہ چیز اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کسی بہترین قاری اور اچھے حافظ سے سماع نہ کیا جائے۔ قرآن کریم بغیر معلم کے سیکھا نہیں جاسکتا ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ عرب میں سب سے زیادہ فصیح اللسان تھے آپ ہر سال رمضان المبارک میں ایک مرتبہ قرآن پاک جبریل علیہ السلام کو سناتے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی آپﷺ نے دو مرتبہ قرآن پاک جبریل علیہ السلام کو سنایا۔

اسی طرح آپ ﷺ نے بالمشافہ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن پاک سکھایا اور یوں نسل در نسل بعد میں آنے والوں نے سنا، لہذا قرآن پاک کا کسی اچھے قاری سے بالمشافہ سننا ضروری ہے اور قرأت کو بھی ساتھ ساتھ کر لینا چاہیے۔

قرآن پاک پڑھنے میں صرف اپنے آپ پر ہی اعتماد نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ آدمی عربی زبان جاننے والا ہی کیوں نہ ہو اور اس کے اصول و قواعد کی معرفت بھی رکھتا ہو، کیونکہ قرآن پاک میں کچھ مقامات ہیں جو مشہور عربی قواعد کے خلاف ہیں۔

۳۔ یومیہ حفظ کی مقدار کا تعین

حفظ قرآن پاک کی خواہش رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ ایک دن میں جتنا حفظ کرسکتا ہے ہو اس کا تعین کرلے۔ مثال کے طور پر چند آیات، ایک  دو رکوع، ایک دو صفحات یا جتنا آسانی سے یاد کرسکے۔ اس طرح حفظ شروع کردے اور ضروری ہے کہ یہ مشق ، خوش الحانی کے ساتھ ہو تاکہ پڑھنے سے ایک تو سنت کی پیروی ہو اور دوسرا اس کا حفظ پکا ہو اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیوں کہ خوش الحانی سماعت کو بھی بھلی لگتی ہے اور حفظ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

۴۔ جب تک سبق یاد نہ ہو آگے نہ بڑھے

حفظ کرنے والا اس وقت تک نئے سبق کی طرف منتقل نہ ہو جب تک پہلا سبق اچھی طرح یاد نہ کرلے، تاکہ جو اس نے یاد کیا ہے مکمل طور پر اس کے ذہن پر نقش ہوجائے۔ بلاشبہ جو چیز حفظ میں معین و مددگار ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حافظ اپنے شب و روز کے تمام اوقات میں حفظ  کو حرزِجان بنالے اور یہ اس طرح کہ نوافل و سنن کی نمازوں میں حفظ شدہ آیات کی تلاوت کرے، اسی طرح نوافل میں، نمازوں کے انتظار کے اوقات میں اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد۔

اس طرح حفظ بہت آسان ہوجائے گا او ر ہر آدمی کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ قرآن پاک یاد کرلے اگرچہ وہ کتنا ہی کاموں میں الجھا ہوا کیوں نہ ہو، کیونکہ اسےحفظ کے لئے خاص طور پر وقت نکال کر بیٹھنا نہیں پڑھے گا، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ کسی اچھے قاری سے اپنی قرأت کی تصحیح کروالے، پھر ہمیشہ نماز کے اوقات میں حفظ کرتا رہے، نفلی نمازوں میں اسے دہراتا رہے یوں رات تک وہ حفظ کے مقرر کردہ آیات اس طرح یاد کرلے گا کہ وہ مکمل طور پر اس کے ذہن پر نقش ہوچکی ہوں گی۔ اور اگر کسی دن مصروفیت کی بنا پر یاد نہ کرسکے تو نیا سبق بالکل نہ لے بلکہ پرانے سبق کے ساتھ پہلے دن کا سبق جاری رکھے، یہاں تک کہ اسےاچھی طرح یاد کرلے۔

۵۔ ایک ہی طرح کے قرآن پاک سے یاد کرنا

جو چیز مکمل طور پر حفظ کے لئے مددگار ہے وہ یہ کہ حافظ اپنے لئے ایک قرآن پاک کو خاص کرلے اور پھر اسے تبدیل نہ کرے، کیونکہ انسان جس طرح سن کر یاد کرتا ہے اس طرح دیکھ کر بھی یاد کرتا ہے۔

یہ اس لئے بھی کیوں کہ آیات کی شکل و صورت اور جگہیں جہاں قرآن پاک میں یہ آیات موجود ہیں وہ سب بہت زیادہ تلاوت کرنے اور دیکھنے سے ذہن میں نقش ہوجاتی ہیں، جو شخص اپنے اس قرآن پاک کی حفاظت نہیں کرتا جس سے اس نے حفظ کیا ہو یا جو قرآن پاک کے مختلف نسخوں سے یاد کرتا ہے تو جہاں آیات کی جگہیں تبدیل ہوجاتی ہیں اس شخص کا حفظ بکھر جاتا ہے اور حفظ کرنا اس کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے، اس لئے حافظ کو چاہئے کہ ایک ہی طرح کے قرآن کریم میں یاد کرے اور اسے تبدیل نہ کرے۔

۶۔ سورت کو اول سے آخر تک مربوط یاد کرنا

قرآن پاک کی کسی سورت کو یاد کر لینے کے بعد حافظ کو چاہئے کہ وہ کسی دوسری سورت کی طرف اس وقت تک ہرگز منتقل نہ ہو جب تک پہلے والی سورت کو اچھی طرح یاد کرنے کے بعد اس کے اول کو آخر سے مربوط نہ کرلے، اور اس کی زبان اس سورت پر یوں آسانی اور سہولت سے چلنے لگے کہ ان آیات کی تلاوت اور قرأت کے تسلل کے اسے غور و فکر کی مشقت نہ اٹھانی پڑے ، بلکہ یوں ہونا چاہئے کہ پانی کی طرح حفظ ہو اور پوری سورت اس کے ذہن پر اس طرح نقش ہوجائے کہ جب سورت پڑھنا شروع کرے تو بغیر کسی رکاوٹ کے پڑھتا چلا جائے۔

۷۔ ہمیشہ قرآن پاک دہراتے رہنا

قرآن پا ک کا حفظ شعر ، نثر یا کسی اور چیز کے حفظ سے بالکل مختلف ہے، اس لئے کہ قرآن پاک بہت جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، کم ازکم ہی ایسا ہوتا ہے کہ حافظ قرآن پاک کو کچھ عرصہ کے لئے چھوڑے اور اس کے ذہن سے نکل نہ جائے، یوں حافظ اسے جلد بھلا بیٹھتا ہے اس لئے ہمیشہ دھراتے رہنا چاہئے، راتوں کو اٹھ کر ہمیشگی کے ساتھ حفظ شدہ قرآن پاک قیام میں پڑھنا چاہئے۔

رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ” بے شک حافظ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے کہ اگر وہ اس کی نگرانی رکھے تو اسے روک رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تو جاتا رہے گا”

اور یہ بھی فرمایا: ” قرآن پاک پڑھنے میں ہمیشگی اختیار کرو ، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میرے جان  ہے قرآن پاک اپنی  مثال میں بندھے ہوئے اونٹ سے زیادہ سخت ہے چھوٹ جانے میں یعنی بھول جانے میں”۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حافظ قرآن پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ قرآن پاک کا دور اور ورد کرتا رہے، کم از کم تیس پاروں میں ایک پارہ تو روزانہ دھرالے اور زیادہ سے زیادہ دس پارے روز پڑھ سکتا ہے اس طرح ہمیشہ کی متابعت اور مستقل توجہ سے حفظ باقی رہتا ہے بصورت دیگر قرآن پا ک ذہن سے محو ہوجاتا ہے۔

۸۔ ہمیشہ سناتے رہنا

حافظ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے حفظ پر اعتماد کرکے نہ بیٹھا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ ہمیشہ کسی دوسرے کو سناتا رہے خاص طور اگر کسی اچھے حافظ کو سنایا جائے تو اور بھی بہتر ہے تاکہ قرآت کے دوران اگر کہیں اس سے بھول ہوگئی ہو یا یاد کرتے وقت بغیر توجہ اور سمجھ کے غلط یاد کرلیا ہو تو سننے والا حافظ اسے غلطی پر متنبہ کردے۔

اسی طرح بعض اوقات ہم میں سے کوئی اکیلے میں کسی سورت کو غلط یاد کرلیتا ہے اور اب مصحف میں دیکھنے سے بھی غلطی کا پتہ نہی چلتا، کیونکہ بسا اوقت قرآت نظر پر سبقت لے جاتی ہے اور غلطی باقی رہ جاتی ہے، لیکن دوسرے کو سنانے سے اس قسم کی غلطیوں کی بھی وضاحت ہوتی ہے نیز آئندہ کے لئے اس طرح کے مقامات پر دائمی تنبیہ کا بھی ذریعہ ہے۔

۹۔ متشابہ آیات کی طرح خصوصی توجہ

قرآن پاک میں چھ ہزار سے زاید آیات ہیں ان مین سے دو ہزار آیات آپس میں اس قدر متشابہ ہیں کہ بعض اوقت یہی مشابہت مطابقت کی حد تک پہنچ جاتی ہے یا اگر کہیں اختلاف ہوتا بھی ہے تو ایک آدھ حرف میں یا ایک دو یا اس سے کچھ زیادہ الفاظ میں ، اس لئے قرآن مجید کے قاری کے لئے لازمی ہے کہ وہ متشابہ آیات کی طرف خاص توجہ دے، یہاں متشابہ سے ہماری مراد لفظی مشابہت ہے یوں متشابہ  آیات پر توجہ دینے سے حفظ اچھا ہوجائے گا۔

۱۰۔ حفظ کرنے کی مناسب عمر سے فائدہ اٹھائیں

اسے یقیناً حفظ کی توفیق مل جاتی ہے جو حفظ کے سنہری سالوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ ہیں عمر کے پانچویں سال سے لے کر تقریباً تئیسویں سال تک کیونکہ اس عمر میں انسان کا حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ حفظ کے لئے سنہری سال ہیں اس لئے پانچ سال سے کم عمر میں حافظہ پورے عروج پر نہیں ہوتا جبکہ تئیس سال کے بعد یاداشت اور حفظ کا پیمانہ ہبوط اور تنزلی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ جبکہ سمجھ بوجھ اور چیزوں کا احاطہ کرنے کی صلاحیت بلندی اور ترقی کی طرف محو پرواز ہوجاتی ہے۔

انسان کو چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو یاد کرنے کے لئے اسن سنہری سالوں سے جس قدر فائدہ اٹھاسکتا ہے اٹھالے کیونکہ حفظ کرنے کی رفتار اس عمر میں بہت تیز ہوتی ہے جب کہ بھولنے کی رفتار بہت سست اور اس کے علاوہ عمر کے بقیہ حصہ میں معاملہ اس سے برعکس ہوجاتا ہے کہ انسان بڑی مشکل اور سست رفتاری سے یاد کرتا ہے ، مگر جلد ہی حفظ شدہ بڑی مقدار بھول جاتا ہے اس لئے جس نے کہا سچ کہا: ” بچپن کا حفظ گویا پتھر پر نقش اور بڑی عمر میں حفظ جیسے پانی پر نقش”

اللہ تعالی ہم سب کو قرآن کریم حفظ کرنے کا شوق ، اس کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے والا بنائیں

قرآن کریم کا معجزہ ہے کہ حافظ کا دماغ روشن ہو جاتا ہے اور اسکے ذہن کے وہ خلیات کھل جاتے ہیں جو عام انسان میں بند ہوتے ہیں جس سے وہ دنیاوی علوم میں بھی انتہائی آسانی سے غیر معمولی مہارت حاصل کر لیتا ہے

شیئر کریں

رائے

فہرست

اپڈیٹ شدہ

اشتراک کریں

سبسکرائب کریں

نئے اپڈیٹس بارے معلومات حاصل کریں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں اور سبسکرائب بٹن دبائیں۔ شکریہ

سوشل میڈیا

مشہور مدارس