وفاق المدارس نصاب تعلیم بنین برائے سال 2024 و مابعد

نصاب کمیٹی نے زیر صدارت صدر وفاق حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ اپنے دو اجلاسوں میں وفاق کے نصاب تعلیم درس نظامی (بنین ) پر غور و خوض کیا اور ترامیم تجویز کیں۔

پہلا اجلاس مورخہ 24 صفر المظفر 1444ھ مطابق 21 ستمبر 2022ء کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں درجہ اولی تا درجہ ثانویہ خاصہ سال دوم کے نصاب پر غور و خوض کیا گیا۔

دوسرا اجلاس مورخہ 15، 16 ربیع الثانی 1444ھ مطابق 11   12 نومبر 2022ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں درجہ عالیہ سال اول تا درجہ عالمیہ سال دوم کے نصاب تعلیم پر غور و خوض کیا گیا۔ نیز پہلے اجلاس کی کارروائی کی توثیق کے ضمن میں تحتانی درجات سے متعلق بعض امور پر نظر ثانی کر کے تجاویز حتمی کی گئیں۔

نصاب کمیٹی کے مذکورہ دونوں اجلاسوں کے نتیجے میں مرتب ہونے والی تجاویز مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ 12، 13 شوال المکرم 1444ھ مطابق 3 ، 4 مئی 2023ء پیش کی گئیں۔ مجلس عاملہ میں نظر ثانی کے بعد طے کیا گیا کہ مجلس شوری کی منظوری کے بعد نصابی ترامیم کو نافذ کیا جائے گا۔

مجلس شوری نے اپنے اجلاس منعقدہ 29 محرم الحرام 1445ھ مطابق 17 اگست 2023ء میں مجوزہ نصابی ترامیم کی منظوری دی اور یہ طے کیا کہ اراکین شوری اپنی تحریری تجاویز بھجوائیں گے ان کو ملاحظہ کرنے کے بعد مجلس عاملہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ حتمی ہوگا۔

چنانچہ مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس منعقدہ 20 جمادی الاولی 1445 ھ مطابق 5 دسمبر 2023ء میں، اراکین شوری کی تجاویز کی روشنی میں حتمی کیا۔ یہ نصاب نئے تعلیمی سال شوال المکرم 1445ھ سے نافذ العمل ہوگا اور 1446ھ کا امتحان اس کے مطابق ہو گا۔

دیگر جدید ترامیم  و اعلانات

(1) امسال 1445ھ کے لیے قدیم فاضلات کے امتحان کی اجازت سابقہ شرائط اور طریقہ کار کے مطابق دی گئی ہے۔
(2) گزشتہ سال مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا تھا کہ امتحان حفظ کے چھ سوال ہوں گے۔ تاہم مدارس کی آراء پر دوبارہ غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا
که امتحان کے کل نمبر 100 جس میں سے پختگی کے 60 نمبر ہوں گے۔ بیس بیس نمبروں کے تین سوال ہوں گے ۔ کامیابی کے لیے 60
میں سے 30 نمبر یعنی ہر سوال میں سے 10 نمبر حاصل کرنا ضروری ہوں گے۔
صفات اور مخارج کے 30 میں سے چالیس فیصد ) 12 نمبر لینا ضروری ہوں گے ۔ مسائل کے دس نمبر ہوں گے۔ مسائل کی راہنمائی کے لیے نماز حنفی ( مولفہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھری) اور تعلیم الاسلام حصہ اول ( مولفہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ) معیار ہوں گی۔
(3) بنات کے نصاب تعلیم پر نظر ثانی کی جائے گی۔
(4) ایسے طلبہ جو درس نظامی کے ساتھ تجوید کا نصاب پڑھ رہے ہیں۔ انہیں ضمنی امتحان میں تجوید کا متحان دینے کی اجازت ہوگی۔
(5) جو راسین 33 فیصد یا اس سے زائد نمبروں کے حامل ہوں گے ان کو ضمنی امتحان میں شرکت کی اجازت ہوگی ۔ یہ رعایت صرف امسال 1445ھ کے لیے ہے اور آئندہ راسین ( نا کام طلبہ ) کو ضمنی امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ جن طلبہ کا سالانہ امتحان میں داخلہ ہو گیا اور وہ کسی معقول عذر کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے ان کو اس شرط کے ساتھ ضمنی امتحان میں شرکت کی اجازت ہوگی کہ مسئول وفاق کی سفارش پر صوبائی ناظم ضمنی امتحان میں داخلہ کے لیے منظوری دیں۔
سالانہ امتحان میں کامیاب طلبہ نمبروں میں اضافہ (رفع درجات) کے لیے ضمنی امتحان میں شرکت کر سکیں گے۔ جس پرچے کا امتحان دوبارہ دیں گے حسب ضابطہ امتحان ہال میں آ کر حاضری لگانے پر اس پرچہ کے سابقہ نمبر کالعدم ہوں گے چاہے وہ حاضری لگانے کے بعد پرچہ دیں یا نہ دیں۔
(6) حفظ کے دوسرے امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی اسناد پر الفرعی لکھا جاتا تھا۔ طے ہوا کہ الفرعی کی بجائے السنوی لکھا جائے۔
(7) 1445ھ سے درجہ ثالثہ ( خاصہ سال اول بنین ) کا امتحان وفاق کے تحت، پرانے نصاب کے مطابق ہوگا ۔

مزید رہنمائی کیلئے وفاق المدارس کی آفیشل ویب سائٹ  کا وزٹ کریں

شیئر کریں

One Response

رائے

فہرست

اپڈیٹ شدہ

اشتراک کریں

سبسکرائب کریں

نئے اپڈیٹس بارے معلومات حاصل کریں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں اور سبسکرائب بٹن دبائیں۔ شکریہ

سوشل میڈیا

مشہور مدارس